Surah Araaf Inferences: Parting Thoughts

Reading Time: 5 minutes

Welcome to Day 22 of the Ramzan Series 2020. We are the Hijri 1441 of the Islamic calendar.

Today we will be discussing the last topic from Surah Araaf for this year’s Ramzan Series.

In the previous posts, we came to know that the people of Araaf will be the ones who will have equal good and bad deeds. They will be on an elevation, and will be able to see jannah and jahannum both. We also studied briefly the conversation of the people of Araaf with the people on both sides.

In this concluding post, we will share the sentiments of the people of jahannum.

Allah starts by stating that He has sent down the Book with clear guidance, and that it will help people navigate the path to jannah.

“And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge – as guidance and mercy to a people who believe.” (Surah Araaf, ayat 52)

And yet the people of jahannum were those who did not pay heed to the repetitive warnings that Allah had sent down through His prophets. Instead, they challenged these prophets and people of the deen and would mock them asking, ‘When will the hour (Day of Judgment) come?’

“Do they await except its result? The Day its result comes those who had ignored it before will say, “The messengers of our Lord had come with the truth, so are there [now] any intercessors to intercede for us or could we be sent back to do other than we used to do?” They will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.”
(Surah Araaf, ayat 53)

And so, when the day of judgment will finally come, these people who had not believed will admit that the messengers had indeed been truthful.

They would request someone to intercede in their behalf. Or perhaps, they be sent back to this dunya so that they may rectify themselves. Even if they were sent back to this world, they still would not know what to do! And how would they know, since they never paid heed to this Book. This is indicated by the part of ayat 53 which translates to “could we be sent back to do other than we used to do?”

I now leave you with my parting thoughts on the ayaat we covered from Surah Araaf:

Let us take every chance to do something good for others, and avoid every chance that might earn us a bad deed.

Let us make dua to Allah today when He is Entirely Merciful; that He may pardon our sins and make us worthy of jannah.

Let us pray in these last nights of Ramzan, that we may be saved from the hellfire and the torturous wait on Araaf.

May Allah be merciful with us on That Day when His Mercy will be exclusive. May Allah give us the gift of ilm and hidayat. May Allah bind us with a love for Him that’s so powerful, that we remember Our Beloved in all that we do. And may Allah make our next life a joyous reunion with Our Lord.

Ameen sum ameen.

Thank you for joining on this epic journey once again in Ramzan. My gratitude knows no bound.

Asalam o Alaikum Wa Rehmatullahe Waa baraqaatuhu.

اس رمضان المبارک کے بائیسویں روز میں خوش آمدید۔

آج ہم اس سال کے سلسلہ رمضان کے آخری مضمون کے لئے سورہ الاعراف کا بیان مکمل کریں گے۔

گزشتہ چند روز میں ہم نے الاعراف کا مطلب سیکھا اور یہ سمجھا کہ الاعراف پر وہ لوگ ہوں گے جن کے بروز قیامت، نیک اور بد اعمال برابر ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ لوگ جنت اور جہنم کو نہ صرف دیکھ سکیں گے بلکہ وہاں کے مکینوں سے ہمکلام بھی ہو سکیں گے۔

آج کے اس اختتامی مضمون میں ہم اہلیان جہنم کی بے بسی اور پچھتاوے سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اللہ تعالی آیت 52 میں ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن کو انسان تک پہنچا دیا گیا ہے جس میں واضح ہدایات موجود ہیں اور جو جنت کی طرف جانے والے راستے کی طرف بہترین راہنمائی کرتی ہیں۔

وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

اللہ تعالی نے انسان تک ہدایت پہنچانے کے لئے ہر زمانے اور ہر علاقے میں مسلسل انبیا کرام کو مبعوث کیا۔ اس کے علاوہ الہامی کتب بھی وقتا فوقتا نازل کی گئیں جن میں آخری اور سب سے جامع ہدایات کے ساتھ قرآن نازل کیا گیا۔ اس مسلسل انتظام کے باوجود جہنم ان لوگوں سے بھری پڑی ہو گی جنہوں نے نہ صرف انبیا کرام کو جھٹلایا بلکہ ان کو للکارا اور ان کا مذاق اڑایا۔ وہ انبیا کرام سے ازراہ مزاق پوچھا کرتے تھے کہ جس قیامت کی گھڑی سے تم ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہو وہ کب آئے گی؟

هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ‌ؕ يَوۡمَ يَاۡتِىۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ‌ۚ فَهَل لَّـنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُوۡا لَـنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِىۡ كُنَّا نَـعۡمَلُ‌ؕ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ (آیت 53)

کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔

قیامت کا منظر، اس کی دہشت اور اپنا عنقریب ہونے والا حشر دیکھ کر یہی لوگ نہ صرف پیغمبروں اور ان کے زریعے آنے والی ہدایت کی سچائی کا اقرار کریں گے بلکہ خود کو ملامت بھی کریں گے۔

ان کی شدید خواہش ہو گی کہ کوئی ایسا مل جائے جو ان کی سفارش کر سکے۔ یا پھر ان کو کسی طرح سے ایک اور موقع دے کر واپس دنیا میں بھیجا جا سکے تاکہ وہ اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر سکیں۔ لیکن اگر ایسا ممکن بھی ہو جائے کہ ان کو ایک موقع اور دے دیا جائے، تو شاید ان کو علم ہی نہ ہو کہ کون کون سے اعمال ہیں جو ان کو اللہ کی خوشنودی دلا سکتے ہیں۔

کیونکہ انہوں نے کبھی بھی قرآن یا نبی کی بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

سورہ الاعراف کی وہ چند آیات جن کو ہم نے ان دنوں پڑھا، ہمیں انتہائی اہم سبق دیتی ہیں۔

نیکی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا، خواہ نیکی کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح گناہ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنا، خواہ کتنا ہی معمولی گناہ کیوں نہ ہو۔

ہمیں اللہ کی عطا کی ہوئی بےشمار نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے۔ خاص طور پر اس وقت کی جب وہ رحمن ہے۔ یہ وقت انتہائی تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ ہمیں اللہ سے اپنے گناہوں کی مسلسل معافی مانگنی چاہئے اور ہدایت طلب کرنی چاہیے۔

خصوصا رمضان کا یہ آخری عشرہ اللہ سے اس کی رحمت اور ہدایت طلب کرنے کے لئے بہترین وقت ہے۔

اللہ ہم پر اس روز رحم فرمائے جس روز اس کا رحم صرف مومنین کے لئے مخصوص ہو گا۔ اللہ ہمیں علم کا نور، ہدایت اور دانائی عطا فرمائے۔ اللہ ہمارے دلوں کو اس کی محبت اور اس کے نور سے منور فرمائے۔ اللہ ہمیں اپنے پیارے دین کو سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہم سب کے لئے دین پر چلنے میں آسانی فرمائے اور ہمیں آسانیاں بانٹنے والوں میں شامل فرمائے۔

آمین۔

اس سلسلہ رمضان میں ہمارا ساتھ دینے کے لئے آپ کا تہہ دل سے شکریہ۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھئیے گا۔

السلام علیکم و رحمة الله ۔

Mehreen Farhan

Blogger. Technology Enthusiast. Community Builder. Book hoarder. #TeamWordpress. Aspiring Moodler. 🚀

No Comments Yet

Leave a Reply

Your email address will not be published.