Surah Araaf Inferences: the people of Jahannum (Part 2)

Reading Time: 4 minutes

Welcome to Day 21 of the Ramzan Series 2020. We are the Hijri 1441 of the Islamic calendar.

We are blessed to have entered the third ashra of Ramzan.

We have been studying a few ayaat of Surah Araaf since the last couple of days. Today we will continue from yesterday’s post.

Till now we have understood that Araaf will be a partition between jannah and jahannum. Araaf will contain the people whose good and bad deeds will be equal, and now, they will await a final decision from Allah.

While they stand there and wait, they will be able to see on both sides: jannah and jahannum. They will wish to be granted jannah, while they will fear being condemned to jahannum. Now we move forward.

Allah says in Surah Araaf, ayat 50,

And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, “Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you.” They will say, “Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers.”

The people in jahannum, as the Quran tells in various places, will be surrounded by fire and they will be covered with it from the top as well.

The will call out to the people in jannah and beg them to share some water or a bit of the food that they have been blessed with. But the people in jannah will tell them that they cannot do so, because today, this rizq has been made haraam on the inhabitants of hell.

When I studied this ayat, I couldn’t help but think about all the times I had taken Allah’s blessings for granted.

We are so much used to having everything that we forget that these blessings are with us for only a limited time. When we studied the difference between the Asma ul Husna of Rahmaan and Raheem, we understood that Allah is Rahmaan in this life, and He will be Raheem in the next life.

Rahmaan means the Entirely Merciful.
Raheem means the Especially Merciful.

In this life, Allah’s blessings and mercy is for all His creation without discrimination. But in the afterlife, it is especially for people who believe.

It also means I need to fix myself. I need to understand that time is a gift and how I use it determines the quality of my next life.

We have known Allah as the Entirely Merciful all our lives. The gifts and blessings we enjoy today without giving any thanks for it may or may not be with us tomorrow. It’s a fate we do not want for ourselve, nor for anyone we love. So let’s mend our ways today.

May Allah make us of those whom He will look with mercy on the day of reckoning. May Allah give us the wisdom to use this life in a way that improves our next life. May Allah gift us with guidance to sirat e mustaqeem. May Allah bless us with jannah and save from the hell fire.

Ameen sum ameen.

اس رمضان المبارک کے اکیسویں روز میں خوش آمدید۔

اللہ کی مہربانی سے ہم رمضان المبارک کے تیسرے عشرے میں قدم رکھ چکے ہیں۔

ہم گزشتہ چند روز سے سورہ الاعراف کی منتخب آیات پر بات کر رہے ہیں۔ آج بھی ہم اس سلسلہ کو وہیں سے آگے لے کر چلیں گے۔

ابھی تک ہم سمجھ چکے ہیں کہ الاعراف جنت اور جہنم کے درمیان ایک مقام ہے۔ یہاں پر روز قیامت وہ لوگ موجود ہوں گے جن کے نیک اور بد اعمال برابر ہوں گے اور وہ جنت یا جہنم میں داخل ہونے کے لئے اللہ کے فیصلے کے منتظر ہوں گے۔

مزید یہ کہ یہ لوگ جنت اور جہنم، اور ان میں موجود لوگوں کو دیکھ اور پہچان سکیں گے۔ اور ان کے دل ایک طرف جنت حاصل کرنے کے لیے تڑپ رہےہوں گے، اور دوسری طرف جہنم میں ڈال دیئے جانے کے خوف سے لرز رہے ہوں گے۔

پھر اس کے بعد آیت 50 میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے:

وَنَادٰىۤ اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ‌ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡـكٰفِرِيۡنَۙ‏

اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے

اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ جہنمی لوگ نہ صرف آگ سے گھرے ہوئے ہوں گے بلکہ ان کو آگ ہی سے ڈھانپ بھی دیا جائے گا۔

وہ پکار پکار کر جنتی لوگوں سے فریاد کریں گے کہ ہمیں کچھ پانی دے دو یا کوئی کھانے کی چیز ہی بھیج دو۔ مگر وہاں سے جواب یہ ملے گا کہ جنت کی تمام نعمتیں اللہ کے حکم سے جہنم کے مکینوں پر حرام قرار دے دی گئی ہیں، لہذا ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

یہان مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ کیسے ہم اللہ کی نعمتوں کی بےقدری کرتے ہیں۔

اگر ہم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھیں تو شاید یہ زندگی کم پڑ جائے۔ خود کو ہمیشہ سے ان تمام نعمتوں میں گھرا دیکھ دیکھ کر ان نعمتوں کی عادت سی ہو جاتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمیں ایک بہت ہی محدود مدت کے لئے دیا گیا ہے۔

جب ہم نے اللہ تعالی کے دو اسما الحسنی “رحمن” اور “رحیم” کے متعلق پڑھا تھا، تو ہمیں یہ سمجھ آئی تھی کہ اللہ اس دنیا میں رحمن ہے، مہربان ہے، اور اس کا کرم ہر ایک کے لئے ہے۔ لیکن اگلی زندگی میں وہ رحیم ہو گا، نہایت رحم والا، اور وہاں اس کی نعمتیں اور مہربانیاں لا محدود ہوں گی مگر صرف ایمان والوں کے لئے مخصوص ہوں گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اس دنیا میں جتنا وقت دیا گیا ہے، وہ بھی ایک نعمت ہے۔ اور میری اگلی زندگی کے حالات کا دارومدار محض اس بات پر ہے کہ میں اپنا یہ وقت کس طرح اور کن کاموں میں گزارتی ہوں۔

آج تک ہم نے صرف اللہ کی نعمتیں اور اس کی مہربانیاں ہی دیکھی ہیں۔ آج اس کا رحم و کرم ہمارے لئے بے پایاں موجود ہے، لیکن اس کا کرم کل بھی ہمیں غیرمشروط طور پر ملے، ایسا ضروری نہیں۔ اور یہ تو کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ اسے یا اس کے پیاروں کو آخرت میں کسی بھی قسم کی تکلیف یا پریشانی کا سامنا ہو۔ لہذا عقلمندی اسی میں ہے کہ آج جب ہمارے پاس وقت اور وسائل ہیں، صحت ہے، موقع اور صلاحیت ہے، تو ان سب کا بہترین استعمال کریں اور اپنی توانائیوں کو درست جگہ لگائیں۔

اللہ ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق دے جس پر چل کر ہم اس کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔ اللہ ہمیں اپنے تمام وسائل اور وقت کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں جہنم سے نجات اور جنت کا حقدار بننے کے لئے محنت کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین

Mehreen Farhan

Blogger. Technology Enthusiast. Community Builder. Book hoarder. #TeamWordpress. Aspiring Moodler. 🚀

No Comments Yet

Leave a Reply

Your email address will not be published.