Surah Araaf Inferences: the people of Jahannum

Reading Time: 5 minutes

Welcome to Day 20 of the Ramzan Series 2020. We are the Hijri 1441 of the Islamic calendar.

Today and in the few following days, we will be going through few ayaat from Surah Araaf.

In yesterday’s post, we talked about the people of Araaf, who will be waiting for their decision of being granted jannah or condemned to jahannum. We will continue from there.

Allah says in ayat 48 of Surah Araaf,

And the companions of the Araaf will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, “Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant.”

While people stand on the partition of Araaf, they will be able to look at both people of jannah and jahannum.

Looking over to the side of jahannum, they will be a able to recognize many people. They could be famous people from this life, or people with huge followings due to any reason. They will be able to recognize them that day and they will wonder where did their friends in high places go?

And so, they will call out to them and ask them,

Where are the people who had your back in the life of the dunya?

Where are the people who always promised to help you in your bad deeds?

Where are your leaders who promised to get you in jannah easily?

Where is your arrogance now?

Your arrogance was of no use in dunya nor did it help you today.

Allah says further,

“Are these the ones whom you [inhabitants of Hell] swore that Allah would never offer them mercy? Enter Paradise, [O People of the Araaf]. No fear will there be concerning you, nor will you grieve.” (Surah Araaf, ayat 49)

The people of jahannum will be questioned, did you think these were the ones who will not have any share in the afterlife? You thought their deeds and their sacrifices will not matter? Today they will be granted Jannah and they will not endure any more pain or grief.


🌸 My inferences:

In the afterlife, the people of Araaf will recognize some people in jahannum. This may be due to the fact that they are so well known in this life, that they will easily be spotted in the next.

People who have a huge following today, or have many admirers, or have a huge influence over the masses do not have any guarantee that this will be useful for them in the next life.

They will come empty handed and stripped of everything of the dunya. The only thing that will help us will be our good deeds and our deen.

Then let’s ponder over our actions and see what our following is all about. What tribe do we attract? What legacy are we leaving behind? What our social media footprint supports? Do we use our time, our skills, our efforts to promote the deen, or do we have no vision at all?

Time, my sisters, is running out. Very fast.

Make good use of it.

May Allah make us of those who have the vision that Allah would want for us. May Allah enable us to understand the true measures of success. May Allah give us the wisdom to have an influence that will benefit us in the next life.

Ameen sum ameen.

‎اس رمضان المبارک کے بیسویں روز میں خوش آمدید۔

‎آج اور آنے والے کچھ روز میں ہم سورہ الاعراف کی چند مزید آیات پر غور کریں گے۔

‎گزشتہ روز ہم نے ان لوگوں کا ذکر کیا تھا جن کو سزا اور جزا کا فیصلہ ہونے تک اعراف میں ٹھہرایا جائے گا۔ آج کی گفتگو کا آغاز ہم وہیں سے کریں گے۔

‎سورہ الاعراف کی آیت 48 میں ارشاد ہوا ہے:

‎وَنَادَىٰۤ اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالاً يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰٮهُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ
‎اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)

‎جیسا کہ ہم نے پہلے زکر کیا تھا کہ اعراف میں ٹھہرائے گئے لوگ جنت اور جہنم، دونوں میں موجود لوگوں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔

‎جہنم میں موجود کئی لوگوں کو یہ لوگ شناخت بھی کر سکیں گے۔ غالبا ان قابلِ شناخت اہلیانِ جہنم میں سے کئی لوگ دنیا میں کسی بھی وجہ سے بااثر رہے ہوں گے۔ اور جیسا کہ کسی بھی زمانے میں بااثر افراد کو قدرے آسانی کے ساتھ پہچانا جا سکتا ہے۔ سو یہ لوگ اس روز بھی پہچانے جائیں گے۔

‎اعراف میں موجود لوگ پکار کر ان سے کہیں گے کہ آج تمہارا سارا اثر و رسوخ تمہارے کس کام آیا؟

‎نہ تمہارے مال و دولت نے تمہیں کوئی فائدہ پہنچایا اور نہ تمہارے دوست کسی کام آئے۔

‎کہاں گیا تمہارا غرور اور تکبر؟

‎تمہارے تکبر نے تمہیں کہاں لا کر پہنچا دیا؟

‎اس سے آگے آیت 49 میں اللہ نے مزید ارشاد فرمایا:

‎اَهٰٓؤُلَۤاءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ‌ؕ ادۡخُلُوۡا الۡجَـنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ‏

‎کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہو گا

‎اہلیانِ جہنم سے مومنین کے متعلق پوچھا جائے گا کہ تم انہی لوگوں کے بارے میں یقین کے ساتھ دعوے کیا کرتے تھے کہ وہ روزِ قیامت اللہ کے کرم سے محروم رہیں گے؟ تمہیں لگتا تھا کہ ان کی نیکیاں، ان کی قربانیاں کسی کام نہیں آئیں گی؟ آج یہ لوگ جنت کے وارث بنا دئیے گئے ہیں، ان کی تکالیف اور دکھ آج ہمیشہ کے لئے تمام ہو جائیں گے۔

‎مختصراً، بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے مال، شہرت، طاقت اور رسوخ کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ایسے لوگوں کو سارا زمانہ جانتا ہے۔ اور یہ لوگ روز قیامت بھی پہچانے جائیں گے۔ لیکن دنیا میں دولت، شہرت، اختیارات اور مراعات کا ہونا ہرگز اس بات کی ضمانت نہیں کہ آخرت میں بھی ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک کیا جائے گا۔ اللہ کا کرم بہرحال انہی کو نصیب ہو گا جنہوں نے دنیا میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھا اور آخرت کی کامیابی کے لئے محنت کی۔

‎سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں دنیا میں دی گئی تمام مراعات، خواہ وہ مال ہو، اثر و رسوخ ہو یا علم ہو، یہ سب ایک طرح کی آزمائش ہے۔ کون ان سب چیزوں کو لوگوں کے فائدے کے لئے، دین کی خدمت کے لئے اور اللہ کی خوشنودی کے لئے استعمال کرتا ہے، اور کون ان کو دنیاوی عیش، ظلم اور حرص و ہوس کے لئے استعمال کرتا ہے، اللہ سب جانتا ہے۔

‎یہ وہ وقت ہے جب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم خود کو دی گئی مراعات کا کیسا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنا مال کیسے اور کہاں خرچ کر رہے ہیں۔ ہمارا علم و ہنر کتنوں کے لئے فائدے کا باعث ہے۔ ہماری ذات سے کتنے لوگوں کا بھلا ہو رہا ہے۔ ہماری صلاحیتیں، خواہ وہ علمی ہوں، انتظامی امور سے متعلق ہوں، حتیّٰ کہ ہمارا سوشل میڈیا کا استعمال بھی کہیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث تو نہیں بن رہا؟

‎اللہ ہمیں کامیابی کا صحیح مطلب سمجھ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں اپنی نعمتوں اور ہماری صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں اپنی نعمتوں پر عاجز اور شکرگزار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

‎آمین-

Mehreen Farhan

Blogger. Technology Enthusiast. Community Builder. Book hoarder. #TeamWordpress. Aspiring Moodler. 🚀

No Comments Yet

Leave a Reply

Your email address will not be published.