Categories: Ramzan Series 2019

Mehreen Farhan

[Ramzan, 22] Welcome to Day 22 of the Ramzan Series 2019.
Today’s topic is ‘insaaf’ (justice).
Before we start today’s topic, I want you think. In your personal capacity, how many times did you have the power to prove something right or wrong? My second question would be, did you side with right or wrong?
These are some very hard questions to ask, but also very important ones.
As women, we think there will not be many times in our lives when we will be in a position to give such verdicts. I think just the opposite.
We women are the builders of our family ecosystem. We face such decisive moments every single day.
We know all too well that love is hard. As mothers, we see the physically hard face of love; as any other role, we also see the emotional one.
Justice requires tough decisions and sometimes those verdicts must go against our loved ones. We often think that a proof of love for our family and friends is to side with them no matter what. This can hardly be farther than what real love is. By helping them in their wrong doing, you are not showing love towards them, but becoming a means for their pain and grief. Love is more tough than it is soft. Every single day, it demands sacrifice and sometimes that sacrifice comes in the form of going against our loved ones for their benefit and safety in the long run.
Allah says in the Quran,
“O you who have believed, be persistently standing firm in justice, witnesses for Allah, even if it is against yourselves or parents and relatives. Whether one is rich or poor, Allah is more worthy of both. So follow not [personal] inclination, lest you not be just (fair). And if you distort [your testimony] or refuse [to give it], then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted.” (Surah Nisaa, ayat 135)
On a personal level, I find this ayat very majestic. Allah commands us to put Him before anyone else. Allah counts all our near and dear relations of this world and tells us that He is Worthier than anyone.
There are several observations in this ayat:
1. To stand firm for justice
2. To be witnesses for Allah
3. To put Allah above anyone else
4. To not change your standards of justice according to social status
4. That Allah knows when and where we state something false!
Not only did Allah ask us to be just and fair, He commanded us to stand tall and firm for justice, not deterring from its path. Allah knows that it takes real courage to go against our closest relations, hence the stress on “being firm”.
Be witnesses for Allah: it means, to keep Allah in every matter that you have and vow to be witnesses of truth.
Allah also commands us to do justice even if the accused is rich or poor. Do not feel pressurized if it is someone rich. Similarly, do not offer leniency if it is someone poor. Your leniency will not benefit them, but will disturb the balance in society.
Lastly, Allah says that if in any way you distort or change your testimony, it might be that no one would know, but remember that Allah knows! Fear Him and give truthful and God fearing judgment.
I want to come back to my first question: are we, as women, in a position to give judgement and be witnesses for Allah? Yes, we are.
We have a very intrinsic role to play because we are homemakers and an Islamic society thrives on a healthy family unit.
Lead your daily house matters with justice and free of any bias.
Give credit where it is due.
Be appreciative of your in laws.
Be mindful of their haq also.
Always speak the truth.
And when circumstances arises where you should side with the truth, then stand firmly for justice and be truthful. Do not let your relations and their social status dictate you; you are the founders of Muslim households and mothers of the Ummah.
May Allah make us of those that He loves, may we have the courage to stand up firmly for justice. May we raise a generation that is kind, fair and just.
Ameen sum ameen.
URDU TRANSLATION BY: Qudsia Huzaifa Jamali
رمضان سیریز کے ۲۲ دن خوش آمدید۔۔
آج کا موضوع ہے ‘ انصاف۔’
آج کے موضوع پر بات شروع کرنے سے پہلے میں چاہوں گی کہ آپ خود سے سوچیں اور یاد کریں کہ کتنی بار ایسا ہوا کہ آپ طاقت رکھتے تھے کسی بات کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کی؟ دوسرا سوال ، آپ نے اُن حالات میں صحیح کا ساتھ دیا یا غلط کا؟
کچھ سوال پوچھنا مشکل ہوتے ہیں خود سے لیکن اشد ضروری ہوتے ہیں۔
عورت ہونے کے ناطے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم کبھی اُس مقام پر نہیں ہو سکتے جہاں فیصلہ لینے کا ہمیں اختیار ہوگا۔ میں بلکل اس کے برعکس سوچتی ہوں۔
ہم عورتیں اپنے خاندان کا ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہیں۔ ہمیں اس طرح کے فیصلہ کُن لمحات کا سامنا ہر دن رہتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ محبت ایک مشکل امر ہے۔ ماں ہونے کے ناطے کسی دوسرے رشتے کے برعکس ہم جسمانی اور جذباتی طور پر محبت کا مشکل ترین پہلو دیکھتی ہیں ۔
انصاف کے لیے مشکل فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اکثر ہمارے پیاروں کے خلاف ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محبت کا مطلب ہے اپنے خاندان اور پیاروں کا ساتھ دیں چاہے جیسے بھی معاملات ہوں۔ یہ حقیقی محبت سے بلکل پرے ہے۔ غلط میں ان کا ساتھ دے کر آپ محبت کا اظہار نہیں کرتےبلکہ اُن کے دکھ اور تکلیف میں اضافہ کرتے ہیں۔ محبت بہت سخت ہے بجائے نرم ہونے کے۔ ہر روز یہ ہم سے قربانی مانگتی ہے چاہے پھر وہ غلط کرنے پر اپنوں کے خلاف جانا ہی کیوں نا ہو تاکہ اُن کے لیے دیر پا فوائد اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
Allah says in the Quran,
اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
سورة النِّسَاء
اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے ﴿۱۳۵﴾
ذاتی طور پر مجھے یہ آیت بہت شاندار لگی۔ اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اُس کو ہر رشتے پر برتری دیں ۔ وہ ہمارے سب دنیاوی رشتوں کو جمع کرکے کہتا ہے کہ کوئی بھی اُس کی محبت کے مقابل نہیں۔
اس آیت میں کافی پہلو غور طلب ہیں:
۱۔ انصاف کے لیے کھڑے ہونا۔
۲۔ خدا کو حاضر و ناظر جاننا۔
۳۔ اللہ کو سب پر برتری دینا۔
۴۔ معاشرتی حیثیت کے مطابق اپنے عدل اور فیصلوں میں تبدیلی نا کرنا۔
۵۔ کہ خدا جانتا ہے ہم کب اور کہاں کچھ غلط کرتے ہیں۔
نا صرف اللہ ہمیں عدل اور انصاف کرنے کے لیے کہتا ہے، بلکہ سچ کے لیے ڈٹ کر کھڑے رہنے کی بھی تلقین کرتا ہے۔ اللہ جانتا ہے یہ سب سے مشکل امر ہے کہ ثابت قدم رہیں ہم پنے پیاروں کے خلاف۔
اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ امیر ہو یا غریب انصاف کرو۔ امیر ہو تو کسی بھی دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح کوئی غریب ہو تو اس وجہ سے ڈھیل دینے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی ڈھیل کسی کام نہیں آئے گی بلکہ مواشرے میں توازن کو بگاڑ دے گی۔
آخر میں اللہ کہتا ہے کہ اگر کسی بھی طرح آپ اپنا فیصلہ بدلتے ہیں تو چاہے کسی کو نا پتہ ہو مگر یاد رکھیں کہ اللہ سب جانتا ہے۔ اس سے ڈریں اور سچائی اور خوفِ خدا رکھ کر صحیح فیصلہ سُنائیں۔
میں اپنے پہلے سوال کی طرف پھر آنا چاہوں گی۔ کیا ہم بحیثیت عورت اس مقام پر ہیں کہ کسی کے لیے رائے قایم کرسکیں خدا کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے۔ جی، ہم بلکل ہیں۔
ہم بہت ہی اہم کردار کے حامل ہیں کیونکہ ہم گھر کو بناتے ہیں اور اسلامی معاشرے کی اکائی صحتمند خاندانی نظام ہے۔
اپنے روز مرہ معاملات میں انصاف کریں۔
جہاں ضرورت ہو حوصلہ افزائی کریں۔
اپنے سسرال والوں کی تعریف کریں۔
ان کے حقوق کا بھی خیال رکھیں۔
ہمیشہ سچ بولیں۔
اور جب ایسے حالات ہوں کہ سچ کا ساتھ دینا پڑے، تو ثابت قدم رہیں۔ اپنے رشتوں اور سماجی حیثیت کو بیچ میں نا آنے دیں۔ آپ اسلامی نظامِ زندگی اور مسلم امت کی مائیں ہیں۔
اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ ہمیں انصاف کرنے کی ہمت دے۔ ہم ایسی نسل کی تربیت کریں جو رحم دل، سچی اور انصاف پسند ہو۔
آمین ثم آمین۔

Editor's Pick