Mehreen Farhan

Welcome to Day 10 of the Ramzan Series 2020. We are the Hijri 1441 of the Islamic calendar.

“And they say, “There is none but our worldly life, and we will not be resurrected.”
(Surah Al Ana’am, ayat 29)

I was studying today and came across this ayat. Allah talks about the infidels that in this life, they say there is only one life and no life afterwards.
But what interested me was the word used in Arabic… “hayaattunaa”… which literally means “our life”.

And I thought about this huge campaign meant for youngsters where they are taught the lessons of YOLO (you only live once) and slogans of “my life my rules”. Such campaigns have made them reckless and they indeed believe that its their own life, and that they get to live it once, so let’s just do what you want to do because there will not be a second chance. They put crazy ideas in their head and make them do things they would never do if they know they have to be accountable for every single thing.

Then there is the concept of “your happiness is your own responsibility” and things that basically convince them that other people’s happiness is not your concern, you should be comfortable with your getting what you want because that’s your right after all!

These are such mind boggling campaigns that we do believe this is our life owned by us, my one chance at breathing and being alive so why not make the most of it (and that’s not usually a list of entirely good things!)

I’m amazed by the practicality and the absoluteness of language of the Quran.

Layer upon layer of meaning, completely applicable to all times till the day of judgement.

If you’re someone who loves reading a good book written in strong structure, the Quran will spellbound you and completely take you by surprise. The tone is so powerful, it is so absolutely complete, and it surely has come from the King of kings.

May Allah give us the strength of emaan so we may be able to fight off all wrong influences. May Allah make us of those who call others to the right path also. May Allah give us the taufeeq of understanding and implementing on His Book.

Ameen sum ameen.

اس رمضان کے دسویں روز میں خوش آمدید۔

وَقَالُوۡۤا اِنۡ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ‏ ﴿۲۹﴾
اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے ﴿۲۹﴾
سورہ الانعام، آیت 29

آج یہ آیت میری نظر سے گزری، جس میں اللہ نے کفار کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہماری ایک ہی زندگی ہے، نہ اس کے بعد کوئی زندگی ہو گی اور نہ ہی ہمیں کبھی اٹھایا جائے گا۔ لیکن اس آیت میں جس لفظ نے مجھے درحقیقت سوچنے پر مجبور کیا، وہ ہے “حياتنا”، جس کو اردو میں ہماری زندگی کہا جا سکتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے ہم کئی ایسی تحاریک کے متعلق سنتے آ رہے ہیں جن میں لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو کچھ ایسےہی سبق پڑھائے اور سمجھائےجاتے رہے ہیں، مثلا “(YOLO” (You only live once یا “My life my rules” وغیرہ۔ یہ گمراہ کن تحاریک تقریبا ہر ملک میں، نہایت منظم طریقے سے اور بہت ہی پراثر اور دل نشیں انداز میں چلائی جاتی رہی ہیں۔ موجودہ دور میں ان تحاریک میں اور بھی شدت آ رہی ہے۔ ان کے نتائج نہایت خطرناک اور تباہ کن ہیں۔ وہ تمام نوجوان جو ان تحاریک سے متاثر ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں، ان میں شدت پسندی، خود غرضی، خود پسندی اور تکبرکے عناصر بہت نمایاں ہو رہے ہیں۔ وہ دل سے یہی سمجھتے ہیں کہ زندگی ایک مرتبہ ہی ملی ہے، تو اس میں ہر ایسا کام کر لینا چاہیئے جس کی بعد میں حسرت نہ رہ جائے۔ ان میں سے زیادہ تر کام بلاشبہ ایسے ہوتے ہیں جو کوئی بھی خوف خدا رکھنے والا یا آخرت، سزا اور جزا پر ایمان رکھنے والا کرنے کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔

دوسروں کی پروا نہ کرنا، صرف اپنی خوشی کے بارے میں سوچنا، دوسروں سے بدظن کرنا، یہ اور اس جیسے کئی اور فلسفے ہیں جو ان تحاریک میں بہت ہی غیر محسوس طریقے سے ذہن نشین کروائے جاتے ہیں۔

ہمارے پاس قرآن کی شکل میں ایک ایسا ہدایت نامہ موجود ہے، جو نہایت واضح طور پر ایسی تمام تعلیمات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ قرآن میں اس موضوع پر متعدد جامع احکامات اور ارشادات خداوندی موجود ہیں جن میں سے ایک ہم نے شروع میں بیان کیا ہے۔ ایسا شاندار انداز بیان، جس میں تہ در تہ معنی کھلتے چلے جاتے ہیں، جو آغاز انسانی سے لے کر روز قیامت تک ہر دور اور ہر زمانے کے لئے موزوں اور بہترین ہے۔

اللہ ہمیں تمام گمراہ کن تعلیمات کا مقابلہ مضبوط ایمان کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر لانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اللہ ہمیں قرآن عظیم کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے، سمجھنے اور پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔


Editor's Pick